Updated: July 23, 2026, 2:05 PM IST
| Bengaluru
کرناٹک کے شہر بنگلور میں بی جے پی کے رکن اسمبلی بی پی ہریش پر احتجاج کے دوران انڈا پھینکے جانے اور مبینہ طور پر حملہ کیے جانے کا واقعہ پیش آیا۔ ہریش نے الزام لگایا کہ کانگریس کارکنوں نے انہیں گھیر کر نعرے بازی کی، ان پر انڈا پھینکا اور تشدد کیا، جبکہ کانگریس نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بی جے پی کارکنوں نے پہلے اشتعال انگیزی کی۔ واقعے کے بعد دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کے خلاف شکایات درج کرائیں۔
ایم ایل اے کے سر پر انڈا پھینکا گیا۔ تصویر: ایکس
کرناٹک کے دارالحکومت بنگلور میں طلبہ کے احتجاج اور نیٹ معاملے پر سیاسی کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب بی جے پی کے رکن اسمبلی بی پی ہریش پر احتجاج کے دوران انڈا پھینکے جانے اور مبینہ طور پر حملہ کیے جانے کا واقعہ پیش آیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ہریش بی جے پی کے احتجاج میں شرکت کے لیے کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی (KPCC) کے دفتر کی جانب جا رہے تھے۔ بی پی ہریش نے میڈیا سے گفتگو میں الزام لگایا کہ جیسے ہی وہ اپنی گاڑی سے اتر کر کانگریس دفتر کی طرف پیدل روانہ ہوئے، کانگریس کارکنوں نے انہیں گھیر لیا، ان کے خلاف نعرے بازی کی، ان پر انڈا پھینکا جو ان کے سر پر لگا، اور چار افراد نے ان پر جسمانی حملہ بھی کیا۔ ان کے مطابق پولیس نے مداخلت کرکے انہیں وہاں سے بحفاظت نکالا۔
یہ احتجاج دراصل یوتھ کانگریس کی جانب سے نیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں، جنتر منتر پر طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی اور کانگریس لیڈر راہل گاندھی کی حراست کے خلاف ہونے والے مظاہرے کے جواب میں بی جے پی کی طرف سے منعقد کیا گیا تھا۔ تاہم پولیس نے عدالت کی ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے، جن کے مطابق احتجاج صرف فریڈم پارک میں کیا جا سکتا ہے، متعدد بی جے پی لیڈروں کو حراست میں لے لیا۔ بعد ازاں انہیں رہا کر دیا گیا۔ رہائی کے بعد کرناٹک اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف آر اشوک نے بنگلور پولیس کمشنر کو شکایت دیتے ہوئے الزام لگایا کہ کانگریس کارکنوں نے بی جے پی لیڈروں پر انڈے پھینکے، لاٹھیوں اور لوہے کی سلاخوں سے حملہ کیا، حتیٰ کہ حراست میں لے جانے والی پولیس بس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے واقعے کی مکمل تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے: جنتر منتر: دہلی میٹرو بند، ضرورت پڑی تو مداخلت کرینگے: چیف جسٹس سوریہ کانت
دوسری جانب کے پی سی سی کے صدر بی کے ہری پرساد نے بی جے پی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کارکنوں نے پارٹی دفتر کے تحفظ کے لیے احتجاج کیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر انڈے پھینکے گئے تو اس کی ابتدا بی جے پی کارکنوں کی جانب سے ہوئی تھی، جس کے بعد کانگریس کارکنوں نے ردِعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے بی جے پی کے اس الزام کو بھی مسترد کیا کہ کانگریس دفتر میں ہتھیار جمع کیے گئے تھے، اور کہا کہ اگر بی جے پی کے پاس کوئی ثبوت ہے تو وہ اسے پولیس کے سامنے پیش کرے۔ واقعے کے بعد دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کے خلاف پولیس میں شکایات درج کرائی ہیں، جبکہ خبر لکھے جانے تک پولیس کی جانب سے اس واقعے کے سلسلے میں کسی ایک فریق کے دعووں کی باضابطہ تصدیق یا ذمہ داری کا تعین نہیں کیا گیا تھا۔